Pakistan news | Islamic news | Live Cricket and Latest Movies

Watch pakistan news, Islamic News, Live Cricket , Latest Movies and other Entertainments videos and Much More at Pakwebnews,,,

Tuesday, September 17, 2019

یہ ڈرون اٹیک نہیں تھا بلکہ کروز میزائل کا حملہ تھا۔


 یہ ڈرون اٹیک نہیں تھا بلکہ کروز میزائل کا حملہ تھا۔ 

جس سے سعودی آئل فیلڈ آرامکو (ابقیق )میں دو بلکہ سترہ جگہوں پر نقصان پہنچا اور یہ کروز میزائل یمن سے نہیں فائر گیا تھا۔ امریکہ کہہ رہا ہے کہ یہ حملہ عراق یا ایران سے کیا گیا۔ جب کہ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم نے یہ حملہ نہیں کیا۔ اور اگر عراق کو دیکھا جائے تو وہاں امریکہ کا اچھا خاصہ کنٹرول ہے۔ یہ بات غیر ممکن نہیں ہے کہ امریکہ نے عراق سے کروز میزائل خود مارا ہو۔ اگر امریکہ یہ بات کر رہا ہے کہ کروز میزائل عراق یا ایران سے فائر کیے گئے تو یہ جو لفظ "یا" ہے نا یہ کسی بہت بڑی سازش کی خبر دے رہا ہے۔ 
آپ کو یاد ہے جب امریکہ ایران پہ حملے کی تیاری میں تھا تو دبئی کی بندرگاہ پہ کھڑے دبئی کے بحری جہاز تباہ ہوئے تھے اور امریکہ نے وہ حملہ ایران کے زمہ لگایا۔ جبکہ عالمی حلقوں میں ایک رائے یہ تھی کہ یہ حملہ خود امریکہ نے کروایا ہے تا کہ ایران پہ سعودیہ حملہ کر دے۔ اور اس طرح امریکہ کو ایران پہ خود حملہ نہ کرنا پڑے۔ واضح رہے کہ صدام حسین شہید کو تھپکی مار کر امریکہ نے عراق کو دس سال تک ایران سے لڑوایا تھا۔ اور اس طرح ایران اور عراق کا اس وقت کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ جب کہ امریکہ عراق کو اربوں روپے کا اسلحہ بیچنے میں بھی کامیاب ہوا۔
اب پھر سعودی آئل فیلڈ آرامکو پہ موجودہ کروز میزائل حملے کے بعد، امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مسٹر مائیک پومپیو نے بیان دیا کہ امریکہ کو ایران پہ حملہ کرنا چاہیے۔ یہ امریکہ کی طرف سے سعودیہ کو ماری جانے والی تھپکی ہے کہ حملہ کرو ہم ساتھ ہیں۔ دراصل امریکہ یہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی آپس میں جنگ لگ جائے۔ اللہ نا کرے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو امریکہ کےلیے یہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام والی بات ہو جائے گی۔ کیوں کہ عرب ایران جنگ کی صورت میں امریکہ کا بڑا دشمن ایران کمزور ہو جائے گا۔ اور دوسری طرف ایران کی جوابی کاروائیوں کی وجہ سے سعودی عرب بھی کمزور ہو جائے گا۔ اس جنگ میں امریکہ سعودیہ کو کھربوں روپے کا اسلحہ بھی بیچ لے گا۔ اور جنگ کی وجہ سے مڈل ایسٹ میں ایران کا کردار محدود ہو جائے گا۔ نتیجے کے طور پر پورا مڈل ایسٹ یعنی شام و عراق وغیرہامریکی اور اسرائیلی جارحیت کی زد پہ آ جائے گا۔ اور امریکہ سعودی عرب کو دوبارہ کھربوں روپے کا اسلحہ بھی فروخت کر لے گا۔ 
(کالم جاری ہے)
اگلے حصے میں ایرانی ردِ عمل، ایران کا امریکہ کو جواب، ممکنہ جنگ کی صورت میں چین اور روس کا کردار، سعودیہ سے امریکہ کو خطرات، امتِ مسلمہ پہ اس  جنگ کے اثرات اور پاکستان پہ اثرات پر بات ہو گی۔
تحریر سنگین علی زادہ۔

No comments:

Post a Comment

Thanks for comment