Pakistan news | Islamic news | Live Cricket and Latest Movies

Watch pakistan news, Islamic News, Live Cricket , Latest Movies and other Entertainments videos and Much More at Pakwebnews,,,

Thursday, December 5, 2019

Dr Zakir Naik

Tuesday, November 26, 2019

Supreme Court to Decide Whether States are Immune from Monetary Damages for Copyright Infringement Claims

Supreme Court to Decide Whether States are Immune from Monetary Damages for Copyright Infringement Claims
Supreme Court to Decide Whether States are Immune from Monetary Damages for Copyright Infringement Claims by Lang Chen
November 4, 2019

On November 5, 2019, the U.S. Supreme Court will hear oral arguments in Allen v. Cooper, a case that will determine whether states are immune from monetary damages for copyright infringement claims.

Background:

In 2015, videographer Frederick Allen and his production company Nautilus Productions sued the State of North Carolina for unauthorized use of their copyrighted videos and photos of an 18th-Century shipwreck. Although the parties had previously reached a settlement, the dispute was revived after the State continued to use Allen’s copyrighted works without compensation. To make matters worse, the State passed a law making all photographs and video material of shipwrecks in custody of North Carolina public record and available for public use without limitation, an action which Allen claimed was a bad faith effort to create a defense to the infringement claim.

In Count I of the lawsuit, Allen argued that the NC law was preempted by federal copyright law, and that it violates the Takings and Due Process clauses of the Constitution. In Count II, Allen alleged copyright infringement. The State moved to dismiss the case, asserting sovereign immunity under the Eleventh Amendment, which precludes individuals from suing states in federal court. Allen argued that Congress abrogated State sovereign immunity for copyright infringement claims when it enacted the Copyright Remedy Clarification Act (CRCA) in 1990.

Tuesday, September 17, 2019

"آخری جوان آخری گولی" اس فقرے کی اصل حقیقت کیا ہے؟


 گذشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ملک کے لئے "آخری جوان آخری گولی" تک لڑنے کی بات کی آپ میں سے بہت کم لوگ اس فقرے کی تاریخ سے واقف ہیں۔اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو 1965کی پاک بھارت جنگ کے پہلے مارکے کے بارے میں جاننا ہوگا ذیل میں دی گئی تحریرکو پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ میجر جنرل آصف غفور نے آخر "آخری جوان ،آخری گولی" تک لڑنے کی بات کیوں کی۔۔۔
پاک بھارت جنگ 1965: بھارتی فوج کو صرف 2 گھنٹے روک لو ، ساری قوم آپ کا یہ احسان یاد رکھے گی
6سمتبر 1965 کو ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلا ع کے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا لیکن پاکستانی سپوتوں نے وطن کی حفاظت کے لئے وہ کارنامے انجام دئیے کہ دشمن کو اُلٹے پاؤں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسی لئے ہم ہر سال6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان مناتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین 1965 میں لڑی گئی جنگ  5اور 6ستمبر کی درمیانی رات میجر شفقت بلوچ کی قیادت میں 17پنجاب کی ڈی کمپنی ٹرکوں کے ذریعے بی آربی نہر کے پاس پہنچی اس وقت ۔ہر طرف رات کاسناٹا تھا ۔ 17 پنجاب کی ڈی کمپنی جب ہڈیارہ گاؤں کے قریب پہنچی تو آدھی رات گزر چکی تھی ۔میجر شفقت بلوچ نے چند جوانوں کو نگہبانی کی ڈیوٹی سونپ کر باقی جوانوں کو آرام کرنے کا حکم دیا۔ ابھی مورچے بھی نہیں کھودے تھے کہ جنرل چودھری نے اپنے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل ہم لاہور جم خانہ کلب میں فتح کا جشن منائیں گے ۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا کہ میجر شفقت بلوچ کی آنکھ اچانک کھل گئی وہ نماز کی تیاری کرنے لگے کہ فائرنگ کی آواز سنائی دی یہ مشن گن اور ماٹر کا فائر تھا۔ میجر شفقت بلوچ نے رینجر سے رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ بھارتی فوج ٹینکوں اور توپوں سمیت لاہور کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی چلی آرہی ہے یہ اطلاع ملتے ہی میجر شفقت نے بریگیڈ کمانڈر کو بھارتی حملے کی اطلاع دی تو کرنل ابراہیم قریشی نے کہا کہ بھارتی فوج کو آپ صرف دوگھنٹے روک لو ‘پوری قوم آپ کی احسان مند ہو گی۔
بھارتی فوج پاکستان کے سرحدی ہڈیارہ گاؤں پر قابض ہوچکی تھی ہڈیارہ گاؤں کے لوگ چیخ و پکار کرتے آرہے تھے ۔ اس لمحے میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ بھارتی فوج نے حملہ کردیا ہے ‘ یہ امتحان کی گھڑی ہے ‘ ہندووں کے سامنے مجھے شرمسار مت کرنا‘اگر ہم ایک سو دس جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے 33لاکھ آبادی کے شہر لاہورکو بچا لیتے ہیں تو یہ سود ا مہنگا نہیں ہے۔ میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں کو دور دور پھیلا دیا۔ دور دور پھیلانے کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کسی بھی جگہ سے نالہ عبور نہ کرسکے۔ یہ کم نفری سے بہت بڑی سپاہ کو روکنے کا وہ حربہ تھا جو میجر شفقت کے ذہن میں آیا۔ میجر شفقت بلوچ جب ہڈیارہ ڈرین کے کنارے کھڑے ہوکر دن کے اجالے میں دشمن کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ رہے تھے تو ایک گولی ان کے بائیں بازو کو چھو کر گزر گئی ۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بازو کا زخم دکھاکر کہا کافر کی گولی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔اسی اثناء میں حولدار رحمت چلایا سر وہ دیکھیں دشمن کے ٹینک۔ واقعی دشمن کے ٹینک صف بندی کیے ادھر ہی چلے آرہے تھے۔ میجر شفقت نے حکم دیا ڈرین کے پل کو بارود لگا کر تباہ کردو۔
اسی دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا لیکن پل تباہ نہ ہوا کچھ اس طرح بیٹھ گیا کہ گاڑیاں آسانی سے گزر سکتی تھیں۔ میجر بلوچ نے ایس او ایس کا فائر مانگا ۔ساتھ ہی اپنی جیپوں سے آر آر پر فائر بھی کھول دیا۔نائیک منصف کو حکم ملا وہ دشمن کے پہلے ٹینک کا نشانہ لے کر فائر کرے۔ فائر کھلتا ہے دشمن کے پہلے ٹینک کے پرخچے اڑ جاتے ہیں بھارت دشمن کی پیش قدمی رک جاتی ہے۔ دشمن کو پہلی بار احساس ہوا کہ پاک فوج کے جوان بھی ڈرین کے اس پار موجود ہیں۔ اب دونوں جانب سے تابڑ توڑ جنگ شروع ہوچکی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے فائر نشانے پر لگتے لیکن بھارتی فوج کے فائر بیکار جاتے ۔ جب بریگیڈئر اصغر قریشی نے وائر لیس پر میجر شفقت سے رابطہ کیا تو اس وقت دشمن کو ہڈیارہ ڈرین کے اس پار رکے ہوئے دو گھنٹے سے زائد وقت ہوچکاتھا۔ بریگیڈ کمانڈر نے کہا‘ میجر شفقت مجھے تم پر فخر ہے تم نے وہ معجزہ کردکھایا ہے جس کی قوم کو ضرورت تھی۔ میجر شفقت نے کہا سر میں آخر ی جوان اور آخری گولی تک دشمن کو ادھر سے پیش قدمی نہیں کرنے دوں گا۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک کمپنی کے خلاف دشمن کی اٹھارہ کمپنیاں برسرپیکار تھیں۔
دشمن کے پاس بھاری ٹینک اور بھاری توپ خانہ بھی تھا جبکہ پاکستانی کمپنی موثر ہتھیاروں سے محروم تھی۔اسی اثناء میں میجر شفقت بلوچ نے دیکھا کہ جنوب مشرق کی جانب سے دشمن کے ٹینک نالے کو عبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔آرٹلری کا فائر مانگا تو جواب ملا میجر ہمارے پاس اتنے گولے نہیں ہیں۔معاملے کی نزاکت بتائی تو گولے برسے آگ اور دھوئیں کے بادل بلند ہوئے اور ایک بار پھر دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔9بجے صبح جنرل چودھری نے لاہور جم خانہ کلب میں شراب کے جام ٹکڑانے تھے لیکن اب ساڑھے دس بج رہے تھے ۔دشمن کی بکتر بند گاڑیاں پہلی دفاعی لائن سے ٹکرا کر سر پھوڑ رہی تھیں۔ لاہور بہت دور تھا۔ انہی لمحات میں صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کے ولولہ انگیز خطاب نے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا اور پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔امریکی ہفت روزہ میگزین “ٹائم”کے جنگی وقائع نگار لوئیس کرار نے 23ستمبر 1965ء کے شمارے میں لکھا ۔میں شاید اس جنگ کو بھول جاؤں لیکن میں اس پاکستانی افسر ( میجر شفقت ) کی مسکراہٹ کونہیں بھول سکتا جو مجھے اپنے ساتھ محاذ جنگ پر لے گیا۔
ان کی مسکراہٹ مجھے بتارہی تھی کہ پاکستانی جوان کس قدر دلیر اور نڈر ہیں۔جوان سے جرنیل تک کو میں نے اس طرح آگ سے کھیلتے دیکھا جس طرح گلی کوچوں میں چھوٹے بچے کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں۔جب میجر عزیز بھٹی نے بی آر بی پر دفاعی پوزیشن سنبھال لی تو میجر شفقت کو ڈی کمپنی کے ہمراہ واپس آنے کا حکم ملا۔ میجر شفقت ‘ بٹالین ہیڈ کوارٹر پہنچے تو کرنل قریشی نے پوچھا کتنے جوان شہید ہوئے ۔میجر شفقت نے بتایا صرف دو جوان وہ بھی واپس آتے ہوئے اپنی ہی بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شہید ہوئے ۔بھارتی فوج ہمارا ایک بھی جوان شہید نہیں کرسکی۔جبکہ اسی علاقے سے بھارتی فوج تین دن تک اپنے فوجیوں کی نعشیں اٹھاتی رہی ۔میجر شفقت کو محافظ لاہور کے خطاب کے علاوہ جنرل محمدایوب خان نے ستارہ جرات سے بھی نوازا ۔ یہ ہیں پاکستان کے وہ بہادر سپوت
جو نہ گولیوں سے ڈرتے ہیں نہ بارود سے جن کا مقصد صرف وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنا ہے زندہ قومیں اپنے ان بہادر ہیروز کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتیں یہ ہیرو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اے راہ ھق کے شہیدو وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں.

یہ ڈرون اٹیک نہیں تھا بلکہ کروز میزائل کا حملہ تھا۔


 یہ ڈرون اٹیک نہیں تھا بلکہ کروز میزائل کا حملہ تھا۔ 

جس سے سعودی آئل فیلڈ آرامکو (ابقیق )میں دو بلکہ سترہ جگہوں پر نقصان پہنچا اور یہ کروز میزائل یمن سے نہیں فائر گیا تھا۔ امریکہ کہہ رہا ہے کہ یہ حملہ عراق یا ایران سے کیا گیا۔ جب کہ ایران کہہ رہا ہے کہ ہم نے یہ حملہ نہیں کیا۔ اور اگر عراق کو دیکھا جائے تو وہاں امریکہ کا اچھا خاصہ کنٹرول ہے۔ یہ بات غیر ممکن نہیں ہے کہ امریکہ نے عراق سے کروز میزائل خود مارا ہو۔ اگر امریکہ یہ بات کر رہا ہے کہ کروز میزائل عراق یا ایران سے فائر کیے گئے تو یہ جو لفظ "یا" ہے نا یہ کسی بہت بڑی سازش کی خبر دے رہا ہے۔ 
آپ کو یاد ہے جب امریکہ ایران پہ حملے کی تیاری میں تھا تو دبئی کی بندرگاہ پہ کھڑے دبئی کے بحری جہاز تباہ ہوئے تھے اور امریکہ نے وہ حملہ ایران کے زمہ لگایا۔ جبکہ عالمی حلقوں میں ایک رائے یہ تھی کہ یہ حملہ خود امریکہ نے کروایا ہے تا کہ ایران پہ سعودیہ حملہ کر دے۔ اور اس طرح امریکہ کو ایران پہ خود حملہ نہ کرنا پڑے۔ واضح رہے کہ صدام حسین شہید کو تھپکی مار کر امریکہ نے عراق کو دس سال تک ایران سے لڑوایا تھا۔ اور اس طرح ایران اور عراق کا اس وقت کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔ جب کہ امریکہ عراق کو اربوں روپے کا اسلحہ بیچنے میں بھی کامیاب ہوا۔
اب پھر سعودی آئل فیلڈ آرامکو پہ موجودہ کروز میزائل حملے کے بعد، امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مسٹر مائیک پومپیو نے بیان دیا کہ امریکہ کو ایران پہ حملہ کرنا چاہیے۔ یہ امریکہ کی طرف سے سعودیہ کو ماری جانے والی تھپکی ہے کہ حملہ کرو ہم ساتھ ہیں۔ دراصل امریکہ یہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کی آپس میں جنگ لگ جائے۔ اللہ نا کرے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو امریکہ کےلیے یہ آم کے آم گٹھلیوں کے دام والی بات ہو جائے گی۔ کیوں کہ عرب ایران جنگ کی صورت میں امریکہ کا بڑا دشمن ایران کمزور ہو جائے گا۔ اور دوسری طرف ایران کی جوابی کاروائیوں کی وجہ سے سعودی عرب بھی کمزور ہو جائے گا۔ اس جنگ میں امریکہ سعودیہ کو کھربوں روپے کا اسلحہ بھی بیچ لے گا۔ اور جنگ کی وجہ سے مڈل ایسٹ میں ایران کا کردار محدود ہو جائے گا۔ نتیجے کے طور پر پورا مڈل ایسٹ یعنی شام و عراق وغیرہامریکی اور اسرائیلی جارحیت کی زد پہ آ جائے گا۔ اور امریکہ سعودی عرب کو دوبارہ کھربوں روپے کا اسلحہ بھی فروخت کر لے گا۔ 
(کالم جاری ہے)
اگلے حصے میں ایرانی ردِ عمل، ایران کا امریکہ کو جواب، ممکنہ جنگ کی صورت میں چین اور روس کا کردار، سعودیہ سے امریکہ کو خطرات، امتِ مسلمہ پہ اس  جنگ کے اثرات اور پاکستان پہ اثرات پر بات ہو گی۔
تحریر سنگین علی زادہ۔